تحریر: سید تصور کاظمی

گلگت بلتستان میں سیاسی بخار دن بہ دن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ جوں جوں انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتیں اور انکے امیدوار اپنی الیکشن مہم کو تیز کرتے نظر آرہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے شہر شہر اور گاوں گاوں ان دنوں ہر طرف سیاست کی ہی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ اس مرتبہ انتخابات میں بہت سی نئی چیزیں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جن میں سے حوصلہ افزاء پہلو یہ ہے کہ ماضی کی نسبت بظاہر اس مرتبہ فرقہ وارانہ و لسانی بنیادوں پر الیکشن مہم دیکھنے کو نہیں مل رہی، بلکہ عوام ان تمام وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کارکردگی، میرٹ اور اہلیت کے معیار پر امیدواروں کے انتخاب کیلئے پر عزم نظر آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت حتٰی کہ مذہبی سیاسی جماعتیں بھی اپنی الیکشن مہم میں فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات کو ہوا دینے کی بجائے اتحاد بین المسلمین اور امن کے علمبرار ہونے کے نعروں کیساتھ میدان میں وارد ہوئی ہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات میں پہلی مرتبہ نوجوان نسل کا بھی بھرپور عملی کردار نظر آرہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت کی یہ کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرسکیں۔ چنانچہ جب بات ہو رہی ہو نوجوانوں کی اور سوشل میڈیا کا میدان موضؤع بحث نہ آئے یہ ہو ہی نہیں سکتا، خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا، لہذا ہر سیاسی و مذہبی جماعت نے سوشل میڈیا کو بھی اپنی الیکشن مہم کا اہم ذریعہ بنایا ہوا ہے، جس کی مدد سے وہ باآسانی عوام بالخصوص نوجوانوں تک اپنا منشور اور پیغام موثر انداز میں پہنچا سکتے ہیں۔

میرے کالم کے عنوان میں سیاسیت کیساتھ منافقت کو اس غرض سے نتھی کیا ہے کہ ان دنوں بعض سیاسی نمائندے اپنے آپ کو امن عالم کا ٹھیکدار قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان سے لسانی اور فرقہ وارانہ سیاست کے مکمل خاتمے کے بلند و بانگ دعووں کیساتھ اپنی الیکشن مہم زور و شور سے چلا رہے ہیں۔ ایسے امیدواروں میں سے اکثریت کا تعلق وفاق پرست سیاسی جماعتوں سے ہیں، جن کے خیال میں گلگت بلتستان میں فرقہ واریت اور مذہبی انتہا پسندی کی تمام تر ذمہ داری علاقے میں سرگرم مذہبی سیاسی جماعتیں پر عائد ہوتی ہے۔ اس بحث  میں پڑے بغیر کہ اس میں کس حد تک حقیقت ہے، میرا فقط ان تمام سیاسی راہنماوں سے ایک سوال ہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ واقعاً گلگت بلتستان سے فرقہ وارانہ سیاست اور مذہبی انتہاء پسندی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہونا چاہیئے اور اس سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا، مگر یہی لوگ اور انکے حامیاں دن کے اجھالوں میں اور میڈیا پر تو مذہبی سیاست کیخلاف شعلہ بیانی کرتے ہیں، مگر رات کی تاریکیوں میں یہ تمام لوگ علماء کرام اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی دہلیز پر روزانہ کی بنیاد پر حاضری دیتے اور انتخابات میں اپنی حمایت کیلئے انکی ہمدردیاں سمیٹنے، انتخابی اتحاد اور سیٹ ایڈجسمنٹ کیلئے اپیلیں کرتے نظر آتے ہیں۔

کیا یہ کھلا تضاد اور منافقت نہیں؟ اور واقعاً کیا صرف علماء کرام اور مذہبی جماعتیں ہی گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ تعصبات اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے کی ذمہ دار ہیں؟ جبکہ اگر ہم تاریخ پر ایک مختصر نظر دوڑائیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ گلگت بلتستان میں فرقہ واریت 80ء کی دہائی میں پروان چڑھی اور اس وقت گلگت بلتستان میں کسی بھی وفاق پرست مذہبی جماعت کا کوئی وجود نہیں تھا اور نہ ہی مذہبی جماعتوں کا سیاست میں کوئی کردار ہوتا تھا۔ 80 سے 1994ء کے انتخابات سے قبل کا دور گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے بدترین دور شمار ہوتا ہے۔ 1988ء میں ریاستی سرپرستی میں گلگت بلتستان پر لشکر کشی کو بھلا کون فراموش کرسکتا ہے اور یہ گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جس کے مضر اثرات سے آج بھی گلگت بلتستان کے محکوم و مظلوم عوام باہر نہیں نکل سکے۔

1994ء کے انتخابات میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان میں مذہبی سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں عملی طور پر حصہ لیا اور ایک مذہبی سیاسی جماعت نے سیاسی عمل میں حصہ لیکر بھرپور کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ اس دور میں اگرچہ الیکشن مہم کے دوران مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کی جانب سے عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے مذہبی مقدسات اور جذبات کا کا سہارا لیا گیا، تاہم ہمیں 1994ء اور 1999ء کے دور میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے سیاسی عمل میں شامل ہونے سے فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی واقعہ دیکھنے کو نہیں ملتا، بلکہ 1999ء کے انتخابات کے بعد علاقے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مذہبی سیاسی جماعت تحریک جعفریہ نے پاکستان مسلم لیگ نواز کیساتھ ملکر حکومت بنائی اور اس دور میں گلگت شہر میں پہلی مرتبہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے اس وقت کے چیئرمین اور شہید راہنما سیف الرحمان خان نے تحریک جعفریہ پاکستان سے انتخابی اتحاد کے بعد گلگت شہر سے فرقہ واریت اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنا بھرپور مشترکہ کردار بھی ادا کیا، جس کے آج بھی گلگت کے شہری معترف ہیں اور علاقے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ماحول عوام کو دیکھنے کو ملا، مگر مقتدر طبقوں اور بالخصوص امن دشمن عناصر کو شاید یہ ماحول پسند نہ آیا، لہٰذہ ایک گہری سازش کے تحت علاقے کے نامور سیاسیتدان سیف الرحمان خان کو قتل کروا دیا گیا۔ پھر 8 جنوری 2005ء کو ممتاز عالم دین آغا سید ضیاءالدین رضوی کو بھی اسی منصوبے کے تحت رستے سے ہٹایا گیا۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جو طبقات گلگت بلتستان میں فرقہ واریت اور مذہبی تعصبات کا الزام صرف مذہبی سیاسی جماعتوں پر عائد کرتے ہیں، درحقیقت انھیں خود بھی معلوم ہے کہ اس خطے میں فرقہ وارایت اور مذہبی انتہاء پسندی کو فروغ دینے کے پس پردہ کیا محرکات کیا ہیں، کونسی خفیہ قوتیں اس میں ملوث ہیں اور کون انکے مہرے ہیں، مگر محض سیاسی دشمنی میں یہ لوگ سارا الزام مذہبی جماعتوں پر ڈال کر عوام الناس کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہی راہنما نجی محفلوں اور رات کی تاریکیوں میں اپنی الیکشن مہم کیلئے فرقہ وارانہ اور لسانی کارڈ استعمال کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ حالیہ دنوں میں لبرل اور ترقی پسند جماعت ہونے کی دعویدار وفاق کی ایک بڑی سیاسی جماعت نے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم  کیلئے جن مرکزی راہنماوں کو گلگت بلتستان کے دورے پر مدعو کیا، ان میں بھی فرقہ وارانہ بنیادوں کا سہارا لیا گیا اور شیعہ اکثریتی علاقوں اور مرکزی خطیب و مذہبی جماعتوں سے روابط کیلئے اس جماعت کے نامور شیعہ سیاسی راہنماوں کو جبکہ سنی اکثریتی علاقوں اور مرکزی خطیب و مذہبی جماعتوں سے روابط کیلئے سنی سیاسی راہنماوں کو بھجوایا گیا۔ اسی طرح ایک اور وفاق کی بڑی سیاسی جماعت کے بعض امیدواران اپنی الیکشن مہم کے دوران اپنے اوپر سے ایک خاص فرقے کی جابنداری کے الزام کو غلط ثابت کرنے کیلئے نشرواشاعت میں اپنی لیڈر شپ کے بعض مذہبی راہنماوں کیساتھ ملاقاتوں کی تصاویر کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان دنوں سیاسی جماعتوں نے یہ اقدامات اٹھا کر ثابت کر دیا کہ “اس حمام میں سب ننگے ہیں۔”

جب تک سیاسی جماعتیں اس منافقانہ روش کو مکمل خیرباد نہیں کہہ دیتیں، لسانی اور فرقہ وارانہ کارڈ استعمال کرنے کی بجائے عوام الناس سے کارکردگی اور میرٹ کی بنیاد پر ووٹ نہیں مانگتیں، صرف مذہبی سیاستی جماعتون پر الزمات عائد کرکے اور دن کے اجھالوں اور اخباری بیانات کی حدت تک فرقہ وارنہ و لسانی سیاست کے دعووں سے کوئی تبدیلی نہیں آنے والی اور یہ کھلی منافقت کے علاوہ کچھ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک دوسرے پر تنقید، الزمات اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے گلگت بلتستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں عوام سے کارکردگی، منشور اور میرٹ کی بنیاد پر ووٹ مانگیں اور ہر جماعت چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی، الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی پابندی کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینا اسکا جمہوری حق ہے اور آئین پاکستان انکو اس کی اجازت دیتا ہے، لہٰذہ کسی کو بھی اس پر اعتراضات اٹھانے کا کوئی حق نہیں، ہاں اگر کوئی بھی جماعت خلاف قانون کوئی اقدام اٹھائے، تو اسکے خلاف قانون کا سہارا لیکر اقدامات کی سفارش کی جاسکتی ہے۔

http://apnagilgit.com/wp-content/uploads/2015/05/11265547_10206264824240519_9085408203007717715_n.jpghttp://apnagilgit.com/wp-content/uploads/2015/05/11265547_10206264824240519_9085408203007717715_n-150x150.jpgAdmin ApnaGilgitArticlesLocal NewsNews
تحریر: سید تصور کاظمی گلگت بلتستان میں سیاسی بخار دن بہ دن زور پکڑتا جا رہا ہے۔ جوں جوں انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتیں اور انکے امیدوار اپنی الیکشن مہم کو تیز کرتے نظر آرہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے شہر شہر اور گاوں گاوں ان...