گلگت بلتستان کے گورنر مےر غضنفر علی خان نے کہا ہے کہ آئندہ کے لےے مشکلات سے بچنے کے لےے شاہراہ قراقرم کی بہتر تعمےر کے ساتھ اس شاہراہ کی دےکھ بھال و مرمت کا کام کم ازکم اےک معاہدے کے تحت حکومت چےن کو دےنا ہو گا کےونکہ اس طرح کی صورتحال سے دشمن بھی فائدہ اٹھانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔گلگت بلتستان کی تارےخ میں حالےہ بحران اور اےسی مشکلات سامنے نہےں آئےں اےک سو اٹھاون مقامات پہ شاہراہ قراقرم سمےت دےگر شاہراہےں اور سڑکےں بند ہےں۔طوفانی بارشوں کے سبب شاہراہ قراقرم کی بندش سے عوام جن مشکل اور اذےتناک حالات سے دوچار ہےں ان کا تقاضا ہے کہ ہم رواےتی سستی و غفلت چھوڑ کر ان امور پہ توجہ دےں جو ہمارے لےے مسائل کے پہاڑ کھڑا کرنے کا موجب بنتے ہےں۔شاہراہ قراقرم کی خستہ حالی کے حوالے سے تمام ہی حکومتوں نے غفلت کا مظاہرہ کےا جس کے سبب ےہ شاہراہ موت کی شاہراہ بن چکی ہے۔ شاہراہ قراقرم کی خستہ حالی کے باعث مسافر شدید مشکلات سے دوچار ہیں روڈ کی خستہ حالی کے باعث بارہ گھنٹے کا سفر چوبیس گھنٹے میں طے ہورہا ہے ۔ شاہراہ قراقرم توسیع منصوبے کا کام نہایت سست رفتاری کا شکار ہ رہا شاہراہ قراقرم گلگت بلتستان کی تعمیر ترقی میں نہایت اہمیت کی حامل ہے خطے کو ملانے والی واحد شاہراہ ہونے کے باعث سیاحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے لوگ اذےت سے دوچار ہےں۔ شاہراہ پر جگہ جگہ پانی کی جھیلیں بن گئی ہیں جن پر گاڑیوں کا چلنا دشوار ہوگیاہے جو متعلقہ اداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ کیچڑ اور پانی کے جزیروں پر مشمل شاہراہ قراقرم کے ارد گرد نکاس آب کا کوئی بندوبست نہیں ارباب اختےار جانتے ہےں کہ یہ شاہراہ گلگت بلتستان اور چائنا کو پاکستان سے ملانے کا واحد زمینی راستہ ہے جس پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے اب یہ کھنڈرات بن چکی ہے۔ بارہا مطالبہ کیاجا چکا ہے کہ شاہراہ قراقرم کی مستقل بہتری کیلئے ٹھوس و جامع حکمت عملی وضع کی جائے کرے تاکہ شاہراہ کی حالت بہتر ہوسکے۔شاہراہ قراقرم کی بدحالی اور خستہ حالی کی وجہ سے حادثات آئے روز کا معمول بن چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیںدنےا کا آٹھواں عجوبہ کہلانے والی ےہ شاہراہ واقعتا عجوبہ بن چکی ہے۔13سو کلومیٹر لمبی شاہراہ قراقرم چین وپاکستان کے انجینئروںاور پاک فوج کے جوانوں کی قربانی کابے مثال کارنامہ ہے ۔یہ سڑک حسن ابدال سے شروع ہوکرایبٹ آباد ،مانسہرہ ،بشام،داسو،چلاس،گلگت،ہنزہ ،خنجراب سے ہوتی ہوئی سوست کے مقام پہ چین کے شہر کاشغر پہنچتی ہے ۔چین اور پاکستان کے 25ہزار کارکنوں نے شاہراہ قراقرم خشک پہاڑ وںکو توڑ کربنائی ۔اس کی تعمیر کے دوران سینکڑوں افواج پاکستان کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔اس سڑک کی تکمیل کے بعدچین اور پاکستان کے درمیان ایک نئے تجارتی دور کا آغاز ہوا۔ دنیاکی عظیم شاہراہ قراقرم بلندوبالا پہاڑوں کے ساتھ سانپ کی مانند بل کھاتی ہوئی چلتی ہے اس کے دوسرے کنارے پر ہزاروں فٹ گہرائی میں دریائے سندھ رواں دواں ہے۔شاہراہ قراقرم پر سفر کرتے ہوئے دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پرپہاڑوں کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ پہاڑوں کاسےنہ چےر کرمنزل مقصود کی جانب رواں دواں ےہ شاہراہ حکومتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہے۔کچھ عرصہ قبل گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے ایک قرار داد منظور کی تھی جس میںوفاق سے مطالبہ کیا گیا تھاکہ شاہراہِ قراقرم کی مخدوش صورتحال اور پے در پے اس روڈ پہ رونما ہونے والی دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سے یہ سڑک سفر کے لئے انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔ اس لےے گلگت چترال روڈ کو آل ویدر روڈ میں تبدیل کر کے عوام کے اس سنگین مسئلے کو حل کیا جائے۔ قراردادمیں کہا گےا تھا گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا یہ مقتدر ایوان اس امر کا مکمل ادراک رکھتا ہے کہ گلگت چترال روڈ علاقے کی تعمیر و ترقی میں نہایت اہمیت کی حامل ہے ،اس روڈ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ 2010 کے تباہ کن سیلاب سے جب قراقرم ہائی وے بند ہوئی اور دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظراسے بند رکھا گیا تو ہزاروں مسافروں نے گلگت چترال روڈ کو استعمال کےا۔اس سے یہ اندازہ بھی باآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ گلگت چترال روڈ نہ صرف قراقرم ہائی وے کا متبادل راستہ بن سکتا ہے بلکہ یہاں کی معاشی و سماجی ترقی کا سبب بھی بنے گا بشرطیکہ موجودہ روڈ کو مرمر کر کے آل ویدر روڈ کی حیثیت دے دی جائے تاکہ علاقے کی تجارتی و سیاحتی سرگرمیوں کو خاطر خواہ فروغ مل سکے۔لہذایہ مقتدر ایوان قرار دیتا ہے کہ حکومتِ پاکستان سے درخواست کیجائے کہ وہ گلگت چترال روڈ کو بین الصوبائی حیثیت دے اور اسے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے سپرد کرے تاکہ وہ اس روڈ کو آل ویدر ہائی وے بنانے کی تمام ضروری انتظامات کرتے ہوئے اسے ہندوکش ہائی وے کے نام سے موسوم کرے۔گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی ےہ قراردادواقعتا غور طلب ہے اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ قراقرم ہائی وے پہ بہت زیادہ رش کے باعث ٹریفک حادثات روزمرہ کا معمول بن گئے ہیں ،اگر گلگت چترال روڈ کو آل ویدر روڈ میں تبدیل کر کے اس کی موجودہ صورتحال میں بہتری لائی جائے تو اس کا مثبت اثر قراقرم ہائی وے پر بھی پڑ سکتا ہے کےونکہ گلگت بلتستان سے آنے والی ٹریفک کا بہاﺅ ختم ہونے پر اس روڈ پر دباﺅکم ہوگا اوریوں ایک متبادل راستے کی فراہمی بہت سارے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہو سکتی ہے ۔ قراقرم ہائی وے کے متبادل راستے کی صورت میں بھی گلگت چترال روڈ سے زیادہ مناسب شاید ہی کوئی اور راستہ ہو ۔اگرچہ گورنر نے ہر دس سال بعد اس شاہراہ کی مرمت اوراےک معاہدے کے تحت اسے چےن کے حوالے کرنے کی بابت جن خےالات کا اظہار کےا ہے وہ توجہ طلب ہےں لےکن ےہ اہم شاہراہ ہر دس سال بعد نہےں بلکہ مسلسل مرمت کی متقاضی ہے اس کے لےے اےک الگ سے محکمہ بنانے کی ضرورت ہے جو ذرا سی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں اسکی فوری مرمت کا بندوبست کرے۔Karakorum Highway / Karakoram Highway

Admin ApnaGilgitArticlesNews
گلگت بلتستان کے گورنر مےر غضنفر علی خان نے کہا ہے کہ آئندہ کے لےے مشکلات سے بچنے کے لےے شاہراہ قراقرم کی بہتر تعمےر کے ساتھ اس شاہراہ کی دےکھ بھال و مرمت کا کام کم ازکم اےک معاہدے کے تحت حکومت چےن کو دےنا ہو گا کےونکہ...