اسلام آباد(اپنا گلگت نیوز رپورٹ) پاکستان بھر میں آج سے شروع ہونے والی چھٹی قومی مردم شماری کیلئے جو فارم جاری کیا گیا ہے اس میں گلگت بلتستان میں بولی جانے والی کوئی ایک مقامی زبان بھی زبان کے خانے میں شامل نہیں کی گئی۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی راہنماوں اور عوام الناس نے مردم شماری فارم میں ملک کے دیگر صوبوں کی علاقائی زبانوں کی طرح گلگت بلتستان میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں شینا، بلتی، بروشسکی وغیرہ کو بھی مردم شماری فارم میں شامل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ مردم شماری فارمز میں مقامی زبانوں کے شامل نہ ہونے پر گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ مردم شماری کیلئے تعینات سرکاری اہلکاروں کے مطابق انھیں عوام کی جانب سے فارمز میں علاقائی زبانوں کے خانے شامل نہ ہونے پر عوام کی جانب سے شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ادھر گلگت بلتستان کی اپوازیشن کی سیاسی جماعتوں جمعیت علماء اسلام، اسلامی تحریک پاکستان، جماعت اسلامی، مجلس وحدت مسلمین، بالاورستان نینشل فرنٹ اور پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر قوم پرست و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے وفاقی حکومت سے فوری طور پر مردم شماری فارم میں دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان کی علاقائی زبانوں کو بھی شامل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس حوالے سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اسلامی تحریک کے رکن کیپٹن (ر) شفیع خان نے ایک قرارداد بھی پیش کی تھی جو متفقہ طور پر منظور کی گئی کہ جس میں گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں کو بھی مردم شماری فارم میں شامل کرنے کامطالبہ کیا گیا تھا۔

ادھر سوشل میڈیا پر بھی گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان مردم شماری میں مقامی زبانوں کو نظر انداز کیئے جانے کیخلاف اپنا بھر پور رد عمل دیکھا رہے ہیں۔

http://apnagilgit.com/wp-content/uploads/2017/03/58c8f5389fec1.jpghttp://apnagilgit.com/wp-content/uploads/2017/03/58c8f5389fec1-300x300.jpgAdmin ApnaGilgitLocal NewsNews
اسلام آباد(اپنا گلگت نیوز رپورٹ) پاکستان بھر میں آج سے شروع ہونے والی چھٹی قومی مردم شماری کیلئے جو فارم جاری کیا گیا ہے اس میں گلگت بلتستان میں بولی جانے والی کوئی ایک مقامی زبان بھی زبان کے خانے میں شامل نہیں کی گئی۔ گلگت بلتستان سے تعلق...