گلگت(اپنا گلگت اسٹاف رپورٹر) اسلامی تحریک گلگت بلتستان کی صوبائی قیادت کی جانب سے گلگت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں مرکزی نائب صدرحجتہ الاسلام علامہ شیخ مرزا علی، صوبائی صدر و ممبر جی بی کونسل آغا سید محمد عباس رضوی، صوبائی سینئر نائب صدر جناب دیدار علی، صوبائی سیکٹری جنرل و ممبر جی بی اسمبلی جناب محمدعلی حیدر، ڈویژنل صدر علامہ شیخ منیر حسین منوری، سابق وائس چیئرمین بلدیہ گلگت جناب اختر حسین و دیگر شریک تھے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حجتہ الاسلام آغا شیخ مرزا علی نے کہا کہ ۲۷ اکتوبر۱۹۴۷ کو اسی دن مہاراجہ کشمیر نے بھارت سے الحاق کا اعلان کر کے سری نگر میں اپنی فوج اتاری جسے گلگت بلتستان کے غیور عوام نے مسترد کرتے ہوئے الحاق بھارت کے اعلان کے خلاف اعلان بغاوت کا آغاز کیا اور ٹھیک چار دن بعد یکم نومبر ۱۹۴۷ کو آزادی حاصل کی اور اسلامی جمہوریہ گلگت بلتستان کے نام سے حکومت قائم کی اور سولہ دن بعد بلا مشروط اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا اور ۷۰ سال گزرنے کے بعد بھی ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں کہ گلگت بلتستان کی جانب سے الحاق پاکستان کا اعلان تشنہ ہے۔
گلگت بلتستان اس وقت تاریخ کے اہم ترین مقام پر کھڑا ہے، اگر ۶۸ سال تک آئینی حیثیت کی ٖضرورت جی بی کو تھی تو ۶۹ ویں سال میں جی بی کی آئینی حیثیت کا تعین استحکام پاکستان کے لیئے از حد لازم ہوچکا ہے اور ملک عزیز پاکستان کے دیرینہ دوست ملک چین کی جانب سے اقتصادی راہداری کے منصوبہ کے بعد جی بی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے اور یہ کہنا بلامبالغہ ہوگا کہ جی بی اور سی پیک لازم وملزوم ہو چکے ہیں، سی پیک کی کامیابی جی بی کی وجہ سے ہے اور سی پیک کا تحفظ جی بی کو آئینی تحفظ دینے میں ہی مضمر ہے، اگر خدا نخواستہ جی بی آزاد نہ ہوتااور مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہوتا تو سی پیک کا تصور ہی نہیں ہوتا اور بھارت دریائے سندھ کو بھی روک لیتا۔ان تمام عظیم قربانیوں اور صبر کے بعد بھی محسوس ہوتا ہے کہ جی بی کی آئینی حیثیت کے حوالے سے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔
اسلامی تحریک پاکستان جی بی کے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ واضح کر رہی ہے کہ آج۶۹ سال بے آئین رہ کر بھی ہم استحکام پاکستان کی بات کرتے ہیں، آئینی کمیٹی، چیف آف آرمی اسٹاف، وزیر آعظم پاکستان اور صدر پاکستان اپنا کردار ادا کریں اور گلگت بلتستان کو آئین کے دھارے میں لاکر پاکستان کا آئینی حصہ بنائیں اور سی پیک میں گلگت بلتستان کو نظرانداز کرنے سے روز بروز مایوسی میں اضافہ ہورہا ہے ورنہ ہم وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ ذمہ داروں کے متضاد بیانات واضح کرتے ہیں کہ سی پیک میں آپٹیکل فائبر کےعلاوہ کچھ نہیں ہے۔

1fef4383-babb-4f31-a687-6180982e846a

http://apnagilgit.com/wp-content/uploads/2016/10/a274aeec-41c7-4057-96bb-2d89a4e8ec24-1024x576.jpghttp://apnagilgit.com/wp-content/uploads/2016/10/a274aeec-41c7-4057-96bb-2d89a4e8ec24-300x300.jpgAdmin ApnaGilgitLocal NewsNews
گلگت(اپنا گلگت اسٹاف رپورٹر) اسلامی تحریک گلگت بلتستان کی صوبائی قیادت کی جانب سے گلگت پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں مرکزی نائب صدرحجتہ الاسلام علامہ شیخ مرزا علی، صوبائی صدر و ممبر جی بی کونسل آغا سید محمد عباس رضوی، صوبائی...